فیس بک، ٹویٹراورواٹس ایپ کیلئے ضروری ہوگا آدھار؟ سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا سائٹس سے طلب کی رائے

فیس بک، ٹویٹر اور وہاٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی کیا آدھار سے لنک کرانا ضروری ہو سکتا ہے۔ یوزر پروفائل آدھار سے جوڑنے کو لیکر سپریم کورٹ فیس بک کی اس عرضی پرسماعت کیلئے راضی ہوگیا ہے۔ جس میں مختلف ہائی کورٹ میں زیر التوامعاملوں کو سپریم کورٹ میں ٹرانسفر کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ بتادیں کہ اس معاملے میں چارعرضیاں دائر کی گئی تھیں۔ جس میں 2 مدراس میں، 1 اوڈیشہ اور ایک ممبئی کی ہے۔

یوزر پروفائل کو آدھار سے جوڑنے کو لیکر معاملے کو ٹرانسفر کرنے کا مطالبہ کر رہے فیس بک کی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکز، گوگل ، ٹویٹر اور دوسرے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ادھر واٹس ایپ کی جانب سے کہا گیا کہ پالیسی معاملے کوہائی کورٹ کیسے طئے کرسکتی ہے۔ یہ پارلیمنٹ کےدائرہ اختیار میں ہے۔ واٹس ایپ کی جانب سے کہا گیا کہ سبھی معاملوں کو سپریم کورٹ میں ٹرانسفر کیا جائے جس سے وہ اس معاملے اپنا موقف کورٹ کے سامنے رکھ سکیں۔اس پر سپریم کورٹ نے فیس بک۔آڈھار کو لنک کرنے سے جڑے معاملات کی سماعت مدراس ہائی کورٹ میں جاری رکھنے کی اجازت دی لیکن، آخری فیصلہ دینے پر روک لگائی ہے۔فیس بک کی طرف سے بھی مانگ کی گئی کہ سماعت سپریم کرٹ ہی کرے۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ یہ رازداری کا معاملہ ہے۔ سپریم کورٹ نے فیس بک سے پوچھا مدراس ہائی کورٹ میں کتنی عرضی زیر التواء ہیں۔

فیس بک کی طرف سے 2 عرضیوں کے بارے میں بتایا گیا۔ سوشل میڈیا اداروں کی حمایت میں بات کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا اس معاملے کو سپریم کورٹ سنے اور احکام جاری کریں۔ عدالت نے کہا کہ یہ ایک عالمی معاملہ اور ایسے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ملک کا ایک ہائی کورٹ ایک فیصلہ سنائیں اور دوسرا ہائی کورٹ ، دوسرا فیصلہ سنائیں۔کپل سبل نے کہا کہ مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکے سوشل میڈیا اداروں کا موقف جاننا چاہئے۔اس پر اے جی نے کہا کہ اس معاملے کو لیکر کورٹ میں 18 دنوں تک سنوائی ہوئی ہے، وہاں فیس بک کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ عدالت کے دائرہ اختیار کو مانتے ہے۔

TheLogicalNews

Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by TheLogicalNews. Publisher: News18 Urdu

One thought on “فیس بک، ٹویٹراورواٹس ایپ کیلئے ضروری ہوگا آدھار؟ سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا سائٹس سے طلب کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *