افغانستان، بلندی اور پستی کے ابدی دائرے کا قیدی ملک: تبصرہ

سن دو ہزار چھ میں میری ملاقات کابل کے ایک عمر رسیدہ شخص سے ہوئی اور جو اس نے بیان کیا، افغان تاریخ کا اس سے بہتر خلاصہ شاید بیان کیا ہی نہیں جا سکتا۔ اس افغان باشندے کا کہنا تھا، ”سکندر اعظم آیا اور چلا گیا، اسی طرح برطانوی اور سوویت بھی آئے اور چلے گئے۔ پھر امریکی بھلا کیوں واپس نہیں جائیں گے؟”

تیرہ برس بعد اس شخص کی بات سچ ثابت ہوتی نظر آ رہی ہے۔ طالبان کے ساتھ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے معاہدے پر کسی بھی دن دستخط ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوکش کی اس ‘لامتناہی حد تک رولر کوسٹر’ ریاست کا ایک چکر ختم ہو جائے گا، جس کے مسافر تو بدلتے رہتے ہیں لیکن جس کا اوپر نیچے جاتے رہنے کا سفر مسلسل جاری رہتا ہے۔

ناقابل تسخیر ہونے کا افسانہ

ماضی میں پیدا ہونے والا یہ افسانوی فقرہ افغان خود بھی شوق سے دہراتے ہیں: ”حملہ آور آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اس ملک میں ان کا وقت انتہائی محدود ہوتا ہے۔” یہ محاورہ بہت سے افغانوں کے لیے باعث فخر بھی ہے لیکن یہ انہیں بے چین بھی رکھتا ہے۔ وہ ایک ایسے آزاد افغانستان کا خواب دیکھتے ہیں، جو بالآخر غیر ملکی طاقتوں کا فٹبال نہ ہو۔ دوسری جانب یہ ملک تنہا کیسے ترقی کی منازل طے کرے گا، جو چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ہوا ہے، جو معدنیات سے مالا مال تو ہے لیکن ان معدنیات کو نکالنے کے لیے نہ تو مہارت موجود ہے اور نہ ہی کوئی بنیادی ڈھانچہ۔

اس ملک کو جدید بنانے، اسے اس کے پاؤں پر کھڑا کرنے اور اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کی پہلی کوشش ٹھیک ایک صدی پہلے کی گئی تھی۔ اس وقت 1919ء میں تین تھکا دینے والی جنگوں کے بعد برطانیہ کو بھی یہ ادراک ہو گیا تھا کہ اس ملک میں اس کے قیام کی قسط بھی ختم ہو چکی تھی۔ آخر کار برطانیہ کو اس ملک کو آزادی دینا پڑی تھی۔

بادشاہ اول امان اللہ خان غیرملکی ضابطے نافذ کیے بغیر اس ملک کی ترقی چاہتے تھے۔ وہ مشرق میں جدیدیت پسندی کی لہر سے متاثر ہوئے اور ان کے رول ماڈل سیکولر ترکی کے بانی کمال اتاترک تھے۔ وہ جرمنی میں اس دور کی وائیمار ریپبلک کے قیام سے بھی بہت متاثر تھے، جس کا انہوں نے بطور ریاستی مہمان دورہ بھی کیا تھا۔ ان کی اہلیہ ملکہ ثریا نے حجاب ترک کیا اور امان اللہ خان نے ملک میں اصلاحات متعارف کرانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ آج کے افغان سیاستدان بھی اسی بادشاہ کا وہ قول شوق سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے نظر آتے ہیں، جس میں انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغان صرف اپنی ذمے داری پر ہی اپنے مستقبل کی تشکیل کر سکتے ہیں۔ امان اللہ مستقبل کے لیے ایک چراغ اور رول ماڈل ہیں؟

ناکامیاں ہی ناکامیاں

آج جو لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں، وہ یہ نہ بھولیں کہ ان کا انجام کس قدر تلخ تھا۔ جلد ہی اس بادشاہ کو مغرب کا پیروکار اور اپنی ثقافت کا غدار سمجھا جانے لگا تھا۔ بغاوت کے بعد انہیں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی تھی۔ ان کے جانشین نے اصلاحات واپس لے لیں لیکن پھر بھی وہ مختصر مدت کے لیے ہی تخت نشیں رہے۔ اس کے بعد بھی کئی مصلحین آئے، جنہوں نے ظاہر شاہ کی طرح کچھ برس اس ملک میں امن قائم کیا۔ لیکن ان سبھی کو آخر کار یا تو بے تاج یا پھر ہلاک کر دیا گیا۔

افغانستان کا یہ دور سن 1979ء میں سوویت یونین کے حملے سے ختم ہوا لیکن ایک دہائی بعد اسے بھی وہاں سے نکلنا پڑا۔ اس کے بعد نوے کی دہائی میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا اور پھر طالبان اقتدار میں آ گئے۔ لیکن نائن الیون کے نتیجے میں امریکی حملے، نیٹو مشن، اربوں ڈالر کی ترقیاتی امداد اور ڈیڑھ دہائی پر مشتمل جمہوری آئین کے بعد اب افغانستان میں کیا ہو گا؟

لگتا یوں ہے کہ افغانستان کی ‘رولر کوسٹر اسٹیٹ’ ایک مرتبہ پھر پستی کی جانب گامزن ہے۔ امریکا کی دلچسپی ختم ہو چکی ہے اور عزت بچانے کے لیے وہ دہشت گرد طالبان کے ساتھ ایک امن معاہدہ کرنے سے بھی نہیں گھبرا رہا۔ صرف ایک شرط رکھی گئی ہے کہ طالبان مستقبل میں افغانستان کی سرزمین کسی بیرونی ملک پر دہشت گردانہ حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن افغانستان کا کیا بنے گا؟ اس کی امریکا کو اب کوئی پرواہ نہیں ہے۔ تاریخی طور پر باشعور افغانوں کے اس تجربے کی ایک بار پھر تصدیق ہوئی کہ غیرملکی طاقتیں عام طور پر صرف اپنے مفادات اور اقدار کو ہی نافذ کرنے کے لیے وہاں جاتی ہیں۔

یقیناﹰ کئی دوسرے بھی اسی طرح کے تجربات سے گزرے ہیں۔ لیکن مثال کے طور پر انہوں نے برصغیر پاک و ہند میں کافی تخلیقی حل پیش کیے۔ انگریزوں کی نوآبادیاتی حکمرانی کے بعد برصغیر کو بھی آزادی ملی۔ بھارت اور پاکستان اور پھر بعد میں بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کی صورت میں نئی ریاستیں وجود میں آئیں لیکن انہوں نے تعلیمی ہو یا فوجی نظام یا پھر انگلش زبان، اپنے سابق نوآبادیاتی حکمرانوں کے سود مند ورثے کو برقرار رکھا۔

بیرونی خیالات کے بارے میں شکوک و شبہات

اپنے ناقابل تسخیر ہونے کے افسانے اور ناقابل اعتبار بیرونی ساتھیوں کے ساتھ افسوس ناک تجربے کا ملاپ افغانستان کو ایندھن فراہم کر رہا ہے اور بیرونی خیالات کے خلاف شکوک و شبہات بھی۔ یہ ملک اسی وجہ سے شدت پسندوں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے کیوں کہ وہ یہی وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ان بیرونی اثرات کو ختم کر دیں گے یا پھر کم از کم انہیں روکنے کی کوشش کریں گے۔

انتہاپسند افغان ثقافت اور اس کی ‘اصل’ کا دفاع کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن یہ بھی تو کئی بیرونی اثرات کا ہی تو نتیجہ ہے، چاہے یہ عرب، فارس، وسطی ایشیا یا برصغیر سے آنے والے اثرات ہوں۔ اگر افغانوں کی یہ صدیوں پرانی خوبی دوبارہ زندہ ہوتی، اپنے ملک میں ثقافتی اور سیاسی اثرات کو تبدیل کرنے کی خوبی، تو افغانستان میں اصلاحات کی اندرونی کوششوں کو مسلسل ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑتا۔

TheLogicalNews

Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by TheLogicalNews. Publisher: Qaumiawaz urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *