سماجی علوم کی اسلامی تشکیل وقت کی ضرورت

اے ایم یو کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز میں علمی پروگرام سے پروفیسر محمد مقیم، پروفیسر اکبرحسین کا خطاب

علی گڑھ، 22؍اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز میں ایک علمی پروگرام منعقد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامک ایجوکیشن اسٹیٹ اسلامک یونیورسٹی، یوگ یاکارتا، انڈونیشیا کے وائس ڈین اسٹوڈنٹ اینڈ کو آپریشن افیئرس پروفیسر محمد مقیم نے کہا کہ سماجی وعمرانی علوم کی تشکیل نو وقت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں ابتدائی پانچ صدیوں کے بعد علوم وفنون اور تہذیب وتمدن کا ارتقاء اس لئے رک گیا کیونکہ مسلمانوں کا تعلق قرآن سے کمزور ہوگیا۔ فاضل مقرر نے اپنی اسلامی یونیورسٹی کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ تقریباً تمام سماجی اور عمرانی علوم کے شعبے وہاں قائم ہیں اور قرآن کریم کے اقدار اور تعلیمات کی روشنی میں طلبہ کو تعلیم دی جاتی ہے ۔ انڈونیشیا کے اس وفد میں مختلف سماجی علوم سے تعلق رکھنے والے بارہ خواتین اہل علم شامل تھے جو اس یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں زیر تعلیم ہیں۔ ان کے ساتھ انڈونیشیا کے طلبہ وطالبات نے بھی اس علمی پروگرام میں شرکت کی۔ انہوںنے صدر شعبہ پروفیسر عبیداللہ فہد کو اپنی یونیورسٹی کی جانب سے ایک مومنٹو بھی پیش کیا۔ پروفیسر اکبر حسین ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز نے امام غزالیؒ کی تحریروں کے حوالہ سے کہا کہ اخلاق دوطرح کے ہوتے ہیں محمود اور مذموم۔ محمود اخلاق اس وقت پرورش پاتا ہے جب عقیدہ، عبادت اور اخلاق کے امتزاج سے شخصیت کی تشکیل ہوتی ہے ۔ انہوںنے اسلامی نفسیات کے بعض نظر یاتی مسائل کو بھی مختصراً بیان کیا۔ انہوںنے کہا کہ شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی لائبریری اسلامی علوم پرہندوستان میں سب سے بڑا ذخیرہ تصور کی جاتی ہے ۔ اس شعبے میں اسلامی علوم کے ما ہر اساتذہ موجود ہیں جن کی خدمات سے انڈونیشیا کی اسلامی یونیورسٹی فائدہ اٹھا سکتی ہے ۔ صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز پروفیسر عبیداللہ فہد نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ظاہری برتاؤ اور اعمال کی طرح خیالات اور افکار بھی بڑے خوبصورت ہیں۔ انہوںنے سخت سے سخت حالات میں بھی ایمان پرثابت قدم رہنے کے قرآنی حکم کو دہرایا۔ انہوںنے شعبۂ تعلیم، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سرپرست پروفیسر نسرین کا شکریہ ادا کیا جن کی قیادت میں انڈونیشیا کا یہ وفد شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں آیا۔ ڈاکٹر عبدالمجید خان، ناظم تقریب نے خیر مقدمی کلمات میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاندار تاریخ مختصر بیان کی۔ انہوںنے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے قیام اور اس کی کارگزاریوں کی تاریخ بھی بیان کی۔ بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی میں پڑھائے جانے والے کورسز کا انہوںنے تعارف کرایا۔ اس پروگرام کا آغاز موریشس کے ریسرچ اسکالر تیسیر بن شاہ گولفی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ریسرچ اسکالرز اور طلبہ وطالبات کے علاوہ ڈاکٹر آدم ملک خان، ڈاکٹر بلال احمد کٹی، ڈاکٹر اعجاز احمد، ڈاکٹر ضیاء الدین، ڈاکٹر زبیر ظفر خان کے علاوہ پوسٹ ڈاکٹوریٹ فیلوز ڈاکٹر محمد مصعب گوہر، ڈاکٹرلبنیٰ ناز، ڈاکٹر رحمت اللہ بھی موجود تھے ۔

TheLogicalNews

Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by TheLogicalNews. Publisher: Baseerat Online

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *