ملک کی 85 فیصد دیہی آبادی اب بھی ہیلتھ انشورنس سے محروم، یہ ہے ‘نیو انڈیا’

‘ملی مین’ نامی ایک اہم ایکچوریل اینڈ کنسلٹنگ فرم کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی 1.35 ارب آبادی میں محض 44 فیصد لوگوں کے پاس ہی ہیلتھ انشورنس پالیسی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دیہی ہندوستان کی 85 فیصد آبادی ہیلتھ انشورنس سے محروم ہے جب کہ 80 فیصد شہری آبادی اس کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ پالیسی بازار ڈاٹ کام کے ہیلتھ انشورنس سربراہ امت چھاؤڑا کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ”سچائی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بہت سے لوگ ہیلتھ انشورنس پالیسی کی اہمیت اور اس کی ضرورت کو سمجھتے ہی نہیں ہیں۔”

چھاؤڑا نے کہا کہ ”ہندوستان سستی قیمتوں پر کمپریہنسیو ہیلتھ پالیسیوں کی پیشکش کرنے والے دنیا بھر میں سب سے سستے ہیلتھ انشورنس بازاروں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ بیمہ کرنے والے اب صرف اسپتال میں داخل ہونے پر کوریج دینے سے آگے بڑھتے ہوئے زیادہ وسیع پالیسیاں پیش کر رہے ہیں۔ یہ کمپنیاں اپنی جیب سے کیے جانے والے خرچوں کو کور کرنے کے علاوہ بہتر صحت کو ترجیح دینے اور بیماری سے دیکھ بھال کو فروغ دینے کا بھی کام کر رہی ہیں۔”

‘ملی مین’ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کا ہیلتھ کیئر سسٹم دنیا کے 190 ممالک میں سے 112ویں نمبر پر آتا ہے۔ زیادہ تر ہندوستانی اہم طور سے علاج کے خرچوں کے لیے گھریلو آمدنی اور بچت پر انحصار کرتے ہیں یا ضرورت پڑنے پر اسپتال کے بلوں کی ادائیگی کرنے کے لیے دوستوں اور رشتہ داروں سے پیسے قرض لیتے ہیں۔ نتیجتاً علاج کے مہنگے خرچ کے سبب زیادہ قرض کی وجہ سے ہر سال ہزاروں لوگ غریبی کی مار سے نبرد آزما رہتے ہیں۔

چھاؤڑا کا کہنا ہے کہ ”ہندوستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں علاج کے لیے اپنی جیب سے پیسے خرچ کرنے کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ کل علاج خرچ میں جیب سے کیے جانے والے خرچ کی حصہ داری تقریباً 65 فیصد ہے۔”

چھاؤڑا کا کہنا ہے کہ ”ملک کے زیادہ تر حصوں میں 10-7 لاکھ روپے کی ہیلتھ انشورنس فلوٹر پالیسی مناسب ہے۔ حالانکہ اگر پالیسی استعمال کرنے والے کو کسی سنگین بیماری کا پتہ چلتا ہے تو ایک عام پالیسی زیادہ کام نہیں آتی ہے۔ ایسے معاملوں کے لیے ایک کریٹیکل اِلنیس پالیسی زیادہ مناسب ہے۔ کریٹیکل اِلنیس پالیسی کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور یہ خاص بیماریوں کو اپنے دائرے میں لیتی ہے۔ کون سی پالیسی خریدنا ٹھیک ہوگا، یہ بات آپ کی فیملی کی ضرورتوں کو دھیان میں رکھ کر طے کی جانی چاہیے۔ پالیسی کی پہچان کرنے کے لیے سب سے اہم چیز فیملی کے اراکین کی تعداد اور ان کی عمر ہوتی ہے۔”

TheLogicalNews

Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by TheLogicalNews. Publisher: Qaumiawaz urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *