یوم عاشورہ کے موقع پر حیدرآباد میں “ماتمی جلوس”۔

Spread the love

حیدرآباد۔قدیم شہر حیدرآباد غم اور ماتم کی ایک فضاء کا ماحول دیکھا گیا کیونکہ منگل کے روز”یوم عاشورہ” نہایت عقیدت او راحترام کے ساتھ منایاگیا۔شیعہ کمیونٹی کی جانب سے نکالے گئے روایتی اور تاریخی “بی بی کے عالم”کے دوان لوگ سیاہ لباس زیب تن کئے ماتم کرتے ہوئے دیکھائی دئے۔

اسلامی کیلنڈر کی مناسبت سے محرم پہلا مہینہ ہے جس کی 10تاریخ کو “یوم عاشورہ”منایاجاتا ہے اور اس روز جنگ کربلا میں حق کی سربلندی کے لئے اپنی شہید ہونے والے نواسہ رسول اور ا ن کے لواحقین کی یاد میں ماتم کیاجاتا ہے۔

اس موقع پر جلوس کے دوران شہدائے کربلا کی یاد میں ماتم کے ساتھ خم بھی لگائے جاتے ہیں اور خونی ماتم سے سڑکیں سرخ ہوجاتی ہیں۔ حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے دیگر اضلاعوں میں بھی تعزیہ جلوس کا اہتمام کیاجاتا ہے۔

شہر کے کئی مقامات پر شہدائے کربلا کی یاد میں جلسہ عام بھی منعقد کئے جاتے ہیں جس میں شہدائے کربلا کی بھوک اورپیاس کا دکر کرتے ہوئے ان کی شہادت کو یاد کیاجاتا ہے۔

اس موقع پر شہر کے مختلف مقامات پر لوگوں کے لئے طعام اورپانی کے ساتھ “شرابت” کا بھی اہتمام کیاجاتا ہے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ میں روایتی انداز میں ہندواو رمسلم ایک ساتھ “علم” اٹھاکر کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثالیں بھی پیش کرتے ہیں۔

سختی سکیورٹی انتظامات میں روایتی “بی بی کا علم” پرامن انداز میں پرانے شہر سے گذر گیا۔ شیعہ ماتم داروں کے چہروں’ سینوں او رسروں سے خون بہہ رہاتھا کیونکہ انہوں نے دوران ماتم تیز دھار ہتھیاروں سے سینہ کوبی اورخم لگائی

۔فضاؤں کی “یاحسین” کی صدائیں گونج رہی تھیں او رنواحہ خان واقعات کربلا کو اپنے انداز میں پیش کررہے تھے اور ساتھ میں تمام عمر کے شیعہ مرد حضرات چاقو’ بلیٹ’ چین اور تیزدھار ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے آہ بکا کے ساتھ ماتم کرتے دیکھائی دے رہے تھے’

وہ یہ ماتم شہدائے کربلا کی یاد میں کرتے ہیں تاکہ ان کے درد کااحساس کا کیاجاسکے۔

بڑا جلوس دوپہر میں دبیر پورہ پر واقع الاوہ بی بی سے نکلا جس کو ہاتھی پر خوبصورت انداز میں سجایاگیاتھا۔یہ علم 430سے قبل قطب شاہی دور میں بیٹھایاگیاتھا۔

شہر کے مختلف مقاما ت جس میں تاریخی چارمینا ر بھی شامل ہے سے گذرتاہوا عالم چادرگھاٹ کی موسی ندی کے کنارے پہنچ کر وہا ں پر جلوس کااختتام عمل میں لایاجاتا ہے۔

شہر میں عالم کی زیارت کے لئے پیش ہونے والے لوگوں میں کوتوال شہر حیدرآباد انجنی کمار کے علاوہ ریاستی وزیرداخلہ محمد محمودعلی’

ریاستی وزیر تلاسانی سرینواس یادو’ ڈپٹی میئر گریٹر حیدرآباد بابا فصیح الدین کے علاوہ شہر حیدرآباد کی ممتازشخصیتوں کے نام بھی اس میں شامل ہیں۔

شہر حیدرآباد کی گلیوں اور سڑکوں پر جہاں شربت کی تقسیم عمل میں آتی وہ لکھنو کے بعدشیعہ کمیونٹی کی سب سے بڑی آبادی کا مرکز مانا جاتا ہے۔ سنی کمیونٹی میں یوم عاشورہ کے موقع پر امام حسین ؓ کی یاد میں روزہ رکھا جاتا ہے۔

حضرت امام حسین ؓ کی شہادت61ہجری یا 680سی ای میں عراق کے شہر کربلا میں پیش ہوئی ہے۔ روزہ محرم کی نو اور دس کورکھا جاتا ہے یا پھر 10اور 11محرم کو بھی روزہ رکھا جاتا ہے۔۔

چیف منسٹر تلنگانہ اسٹیٹ کے چندرشیکھر راؤ نے بھی یوم عاشورہ کے موقع پر اپنا تعزیتی بیان جاری کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو یاد کیا ہے

TheLogicalNews

Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by TheLogicalNews. Publisher: The Siaset Daily Urdu