کوئٹہ کا ایم اے جناح روڈ، جہاں کتابوں کی دکانیں اب ماضی کا قصہ ہوئیں

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی طویل ترین شاہراہوں میں شمار ہونے والا ایم اے جناح روڈ 90 کی دہائی کے وسط تک بالکل ویسا نہیں تھا جیسا آج ہے۔

جہاں پہلے کبھی امداد ہوٹل ہوا کرتا تھا وہاں سے شروع ہو کر زہری مسجد تک محیط یہ سڑک شہر کے وسط میں ہونے کی وجہ سے ایک اہم تجارتی مراکز ہے۔

ماضی میں ایم اے جناح روڈ کا جو علاقہ کتاب پڑھنے اور کتابوں سے محبت کرنے والوں کی آماجگاہ تھا، وہ منان چوک سے ریگل چوک تک کا چھوٹا سا علاقہ تھا۔

ماضی میں اس روڈ کے تھڑے اور ہوٹل سہ پہر سے لے کر رات گئے تک کتاب پڑھنے والے سیاسی کارکنوں، رہنماﺅں اور ٹریڈ یونینسٹوں سے آباد ہوتے تھے لیکن اب یہاں جوتوں کی دکانوں اور بینکوں کا راج ہے اور گاہک بھی انھی کا شغف رکھنے والے۔

جوتوں کی دکانوں اور بینکوں کی عمارتوں کی جگ مگ ماضی کے ایم اے جناح روڈ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے لیکن اب اس پر وہ ہوٹل نظر نہیں آتے جو گرما گرم سیاسی و نظریاتی بحث و مباحثے کے مراکز ہوا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

کتابیں سننا صحت کے لیے کیوں مفید ہے؟

ممتاز دانشور اور مصنف ڈاکٹر شاہ محمد مری کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی نئی چیزوں میں دلچسپی ہے ان کے لیے ایم اے جناح روڈ اب بھی وہی ہے لیکن بات صرف اتنی سی ہے کہ کتاب سے محبت کرنے والوں کی دنیا اجڑ گئی ہے۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر اور پیتھالوجسٹ ہیں۔ اگرچہ وہ بولان میڈیکل کالج سے بطور پروفیسر ریٹائر ہوئے ہیں لیکن بلوچستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں وہ ماہر طب کے مقابلے میں ایک مصنف اور دانشور کے طور پر زیادہ مشہور ہیں۔

زمانہ طالب علمی کے دوران وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جن کے لیے ایم اے جناح روڈ کی یاترا ہر روز کی معمول تھی۔

ماضی کے دریچوں کو ٹٹولتے ہوئے ڈاکٹر شاہ محمد مری نے بتایا کہ ایک وقت تھا جب یہاں سے کوئی آدمی ایسا نہیں گزرتا تھا جس کے ہاتھ میں کتاب نہ ہو یا جس کی بغل میں کوئی رسالہ یا اخبار نہ ہو۔

BBC پیشے کے اعتبار سے پیتھالوجسٹ شاہ محمد مری خود بھی کئی کتابوں کے مصنف ہیں

انھوں نے بتایا کہ یہاں جو لوگ آپس میں ملتے تھے تو ایک دوسرے سے کتابوں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔

‘اس علاقے میں ڈان ہوٹل، فرح ہوٹل اور ریگل ہوٹل سمیت نصف درجن سے زائد ہوٹل ہوا کرتے تھے۔ یہ ہوٹل مختلف سیاسی مکاتبِ فکر کے لوگوں میں تقسیم تھے جس کی وجہ سے کسی کو ڈھونڈنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی تھی۔’

انھوں نے بتایا کہ ان ہوٹلوں میں جتنے بھی گاہک تھے، ان سب کا شوق سیاست، ٹریڈ یونین یا پڑھائی ہوا کرتا تھا۔

‘ہوٹل والوں کو بھی یہ پتہ تھا کہ یہی لوگ ان کے گاہک ہیں جس کے باعث وہ ان کے دیر تک بیٹھنے اور بحث مباحثوں پر معترض نہیں ہوتے تھے۔’

انھوں نے بتایا کہ ان مباحثوں کے دوران کبھی کوئی لڑائی اور حقیر بات نہیں ہوتی تھی جبکہ جو بحث ہوتی تھی اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلتا تھا۔

‘آپ یقین کریں کہ کئی کتابیں ایسی تھیں جو آپ کو کراچی اور لاہور میں نہیں ملتی تھیں مگر کوئٹہ کے ایم اے جناح روڈ پر ملتی تھیں۔’

ماضی کے مقابلے میں آج کا ایم اے جناح روڈ کیسا ہے؟

منان چوک سے ریگل چوک تک ایم اے جناح روڈ پر اس وقت 100 کے قریب دکانیں ہیں۔ ان سو دکانوں میں ان ہوٹلوں میں سے ایک بھی نہیں جو 24 سال پہلے یہاں کے رونق کے مراکز تھے۔

پہلے یہاں کتابوں کی جو تین بڑی دکانیں تھیں ان میں سے دو بند ہو گئی ہیں جن میں بک لینڈ اور گوشہ ادب شامل ہیں۔

ماضی کے مقابلے میں ایم اے جناح روڈ پر اس وقت واحد کاروبار کے طور پر جوتوں کی دکانوں اور بینکوں کی بالادستی ہوگئی ہے۔

جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایم اے جناح روڈ کے اس علاقے میں جوتوں کی 20 بڑی دکانوں کے علاوہ 14 بینک ہیں۔

BBC گوشہ ادب کے نام سے ایک مشہور دکان جو کہ بند ہو چکی ہے جبکہ اس کے ساتھ ہی جوتوں اور اسلحے کی دکانوں کا کاروبار جاری ہے

انھوں نے کہا کہ ایم اے جناح روڈ پر دس دس ہزار روپے تک کے اچھے اور زبردست جوتے مل جائیں گے اور یہاں تک کہ اسلحہ بھی ملے گا۔

ان کا کہنا تھا ‘بات صرف اتنی سی ہے کہ کتاب اور اس کی دنیا اجڑ گئی۔ جوتے نے دھکا دے کر کتاب کو کنویں میں گرا دیا ہے اور اپنی جگہ میز پر ڈھونڈ لی۔’

شاہ محمد مری نے کہا کہ وہ جو حافظ کہتا تھا کہ ‘ویران شود شہرے کہ میخانہ نہ دارد’، اس طرح میں یہ کہتا ہوں کہ وہ شہر واقعی تباہ ہوجائے گا جس میں کتب خانے اور کتابوں کی دکانیں نہ ہوں۔’

خود بھی کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر شاہ محمد مری ایم اے جناح روڈ سے کتابوں کی دنیا اجڑنے پر نالاں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم میں جب تک کتاب سے محبت کرنے والے زیادہ لوگ نہیں ملیں گے تب تک انسان سے محبت کرنے والے لوگ بھی پیدا نہیں ہوں گے۔

source: bbc.com/urdu

TheLogicalNews

Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by TheLogicalNews. Publisher: BBC Urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *