عمران خان: 80 لاکھ لوگ 50 دن سے لاک ڈاؤن میں ہیں، کیا اس سے بڑی کوئی دہشت گردی ہے؟’

Getty Images

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو کے خاتمے کے بعد قتل عام کا خدشے کا اظہار کیا ہے۔

عمران خان نے کہا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 9 لاکھ انڈین فوجی موجود ہیں اور قتل عام ہو سکتا ہے لہذا عالمی برادری اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔

نیویارک میں پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے کشمیر میں جو اقدامات کیے ہیں وہ انڈیا کے آئین سے متصادم ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیرمیں کچھ بھی ہوتا ہے تو بھارت اس کا الزام پاکستان پر عائد کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فروری میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ‘فروری میں ایک لڑکے نے انڈین فوج پر حملہ کیا، پاکستان کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن بھارت نے پھر بھی اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا حالانکہ ہم نے بھارت سے ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔’

Getty Images

انھوں نے کہا کہ ‘انڈیا پاکستان پر الزام عائد کرتا ہے پاکستان کی سرحد سے دہشت گرد کشمیر میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں لیکن 80 لاکھ لوگ 50 دن سے لاک ڈاؤن میں زندگی گزار رہے ہیں، کیا اس سے بڑی کوئی دہشت گردی ہے؟’

وزیراعظم نریندر مودی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے بتایا کہ حکومت میں آنے کے بعد انھوں نے انڈین وزی اعظم بات کی اور انھیں بتایا کہ دونوں ملکوں کے مسائل ایک جیسے ہیں لیکن ان کی تمام کوششوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔

کشمیر کے مسئلے پر عالمی رہنماؤں سے ہونے والی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم نے بتایا کہ انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، بورس جانسن، اینگلا مرکل، فرانس کے صدر میکرون سے بات کی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے اس پہلے کہ وقت نکل جائے کیونکہ کیوبا بحران کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے ہونے جارہی ہیں۔

‘عالمی رہنماؤں اور خاص کر طاقت ور ممالک پر زور دوں گا کہ وہ بڑی مارکیٹوں سے آگے دیکھیں کیونکہ اگر یہاں کچھ غلط ہوا تو اس کے اثرات برصغیر کی سرحد سے ہٹ کر بھی ہوں گے اور یہ سنجیدہ مسئلہ ہے۔’

انھوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کا علاقہ متنازعہ ہے اور یہ قراردادیں کشمیریوں کو حق خود رادیت دیتی ہیں اور اس وقت جو صورتحال ہے اس پر اقوام متحدہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔

انھوں نے کہا کہ وہ او آئی سی کے اجلاس میں تمام مسلم قیادت کو جمع کریں گے اور اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ کشمیری مشکل میں ہیں اور وہ مسلمان ہیں اس لیے مسلم دنیا پر لازم ہے کہ وہ ایک مؤقف اپنائیں ورنہ اس سے بنیاد پرستی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

عمران خان نے اس موقع پر ترک صدر طیب اردوغان کی جانب سے اپنے خطاب میں کشمیر کا ذکر کرنے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

source: bbc.com/urdu

TheLogicalNews

Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by TheLogicalNews. Publisher: BBC Urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *