جامعہ ملیہ میں طلبا سے مارپیٹ کا معاملہ: یونیورسٹی انتظامیہ کو دہلی اقلیتی کمیشن کا نوٹس

نئی دہلی: ‘جامعہ ملیہ اسلامیہ’ میں منعقدہ ایک سمینار کے دوران اسرائیلی شخص کی شرکت کے بعد سے انتظامیہ اور طلبا کے درمیان رسہ کشی جاری ہے اور منگل کی شام مظاہرہ کر رہے طلباء کو باہری لوگوں کی طرف سے پیٹے جانے کا معاملہ بھی اب طول پکڑ گیا ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کی طرف سے جامعہ کی انتظامہ کو نوٹس بھیج کر جواب طلب کیا گیا ہے۔ وہیں ایس آئی او (اسٹوڈنٹ اسلامک آرگینائیزیشن) نے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کر کے مطالبہ ہے کہ انتظامیہ طلبا کا استحصال بند کرے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کرے۔

واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو یونیورسٹی سمینار میں ایک اسرائیلی شخص کی شرکت کے بعد طلبا سراپا احتجاج ہو گئے اور انہوں نے انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ طلبا کا کہنا ہے کہ مظاہرے کے دوران اچانک کچھ غنڈہ صفت لوگوں نے آکر انھیں پیٹنا شروع کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مار پیٹ میں کئی طلباء زخمی ہو گئے جن میں کچھ کا علاج قریب کے ہولی فیملی ہاسپیٹل میں چل رہا ہے۔

اس واقعہ سے طلبا مشتعل ہو گئے اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ حالانکہ انتظامیہ نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ طلباء کی پٹائی کے لیے انھوں نے کسی کو بھیجا۔ قبل ازیں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کچھ طلبا کو نوٹس جاری کیا گیا جس کے بعد طلبا میں مزید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

طلبا کا کہنا ہے وہ تو 5 طلباء کو ملے ‘وجہ بتاؤ نوٹس’ کی مخالفت میں پرامن مظاہرہ کر رہے تھے تبھی انتظامیہ کے لوگ آئے اور بیلٹ و گملے اٹھا کر طلبا کو مارنے لگے۔ پٹائی سے ناراض طلبا کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتظامیہ کے ذریعہ بھیجے گئے غنڈوں نے لڑکیوں کے ساتھ بھی بدسلوکی کی۔

ادھر دہلی اقلیتی کمیشن کی طرف سے جاری ایک پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ جامعہ ملیہ کے ایک سیمینار میں اسرائیلی شخص کے اشتراک کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے سلسلہ میں دہلی اقلیتی کمشین نے جامعہ ملیہ کے رجسٹرار کو 15 اکتوربر کو نوٹس بھیجا تھا جس کا جواب ان کو 28 اکتوبر تک دینا تھا لیکن جامعہ میں حالات مزید خراب ہوگئے ہیں اور طلبہ دعویٰ کررہے ہیں کہ حکام نے ان کے احتجاج کو توڑنے کے لیے غنڈوں کا سہارا لیا ہے۔

نئی صورت حال کی وجہ سے دہلی اقلیتی کمیشن نے جامعہ ملیہ کے رجسٹرار کو ایک نیا نوٹس بھیجا ہے جس میں جواب کی تاریخ 25 اکتوبر کردی گئی ہے۔ اپنے پہلے نوٹس میں دہلی اقلیتی کمشین نے کہا تھا، ”کیا جامعہ کے حکام کو بی ڈی ایس نامی بین الاقوامی تحریک کے بارے میں نہیں معلوم ہے جس کے تحت مشرق و مغرب کی بہت سی یونیورسٹیاں اسرائیل کا بائیکاٹ کرتی ہیں کیونکہ وہ فلسطینیوں کی زمینوں پر قابض ہے اور مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے ساتھ بدترین سلوک روا رکھتا ہے”۔

TheLogicalNews

Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by TheLogicalNews. Publisher: Qaumiawaz urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *