ہانگ کانگ: پانچ ماہ سے جاری احتجاج کی وجہ سے معیشت کو ‘تباہ کن’ دھچکا

Getty Images

ہانگ کانگ میں پانچ ماہ سے جاری احتجاج کی وجہ سے یہاں کاروبار کو ‘تباہ کن’ دھچکا لگا ہے جس کی وجہ سے سیاح ہانگ کانگ سے دور ہو رہے ہیں جبکہ ملکی معشیت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

جمعرات کے روز جاری کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق ہانگ کانگ کے شرح نمو میں مسلسل دو سہہ ماہیوں سے منفی ترقی کی وجہ سے تکنیکی طور پر ملکی معیشت کساد بازاری کے دائرے میں آ چکی ہے۔

مالی سال کی تیسری سہہ ماہی میں ہانگ گانک کی شرح نمو 3.2 سے کم ہو کر 0.4 تک پہنچ چکی ہے۔

ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لیم نے اعداد و شمار کے جاری ہونے سے پہلے ایک معاشی بحران کے بارے میں خبردار کیا تھا ہے۔ وہ امید کرتی ہیں کہ رواں سال ہانگ کانگ کی معشیت میں ریکارڈ منفی نمو دیکھا جائے گا۔

ڈی بی ایس کے ماہر معاشیات سیموئیل تس اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ نئے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہانگ کانگ معاشی بحران میں ڈوب چکا ہے جبکہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سیموئیل تس کا کہنا ہے ‘ہمارے خیال میں یہ سب کچھ اتنی جلدی بہتر نہیں ہو گا۔’

Getty Images

‘تباہ کن اثرات’

ہانگ کانگ میں احتجاج جون میں اس وقت شروع ہوا جب مشتبہ مجرموں کو مقدمات کے سامنے کے لیے چین بھیجنے کے لیے ایک نیا قانون متعارف کروانے کی کوشش کی گئی۔

اس احتجاج کی وجہ سے موجودہ معاشی تناؤ پر مزید دباؤ آیا ہے۔

اس متنازع بل کو منسوخ کر دیا گیا ہے لیکن احتجاج جاری رہا اور مظاہرین کے مطالبات میں ہانگ کانگ کے لیے مزید آزادیوں کا مطالبہ بھی شامل ہو گیا۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جاری جھڑپوں میں شدت آئی ہے، پولیس کی جانب سے مظاہرین پر گولیاں چلائی گئی ہیں جبکہ مظاہرین بھی پولیس اہلکاروں پر حملے کر رہے ہیں۔

ان ڈرامائی مناظر کی وجہ سے سیاح ہانگ کانگ کا رخ کرتے ہچکچا رہے ہیں۔

گژشتہ برس کے مقابلے اس سال اکتوبر تک ہانگ کانگ میں آنے والے سیاحوں میں 50 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

بہت سے ہوٹل اپنے خالی کمروں کو بھرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور مسٹر تس کہ مطابق خالی جگہوں کی شرح تقریباً 60 فیصد ہے۔

بہت سے ہوٹلوں میں سیاحوں کو واپس لانے کے لیے قیمتوں میں کمی بھی کی گئی ہے تاہم اطلاعات کے مطابق بہت سے ہوٹلوں میں مندی کے اس رحجان پر قابو پانے کے لیے ہوٹل سٹاف کو اپنے کام کے اوقات کم کرنے اور چھٹی لینے کے لیے بھی مجبور کیا گیا ہے۔

اوولو گروپ جو ہانگ کانگ میں چار ہوٹل چلاتا ہے، نے گزشتہ تین ماہ میں رہائشی ریٹس میں 30 فیصد کمی کی ہے۔

اوولو گروپ کے چیف ایگزیکٹو گریش جھنجووالا کا کہنا ہے ‘ہمارے شہر کی حالیہ صورتحال نے مقامی کاروبار خاص طور پر مہمان نوازی کی صنعت پر جو اثر ڈالا ہے وہ تباہ کن ہے۔

ہانگ کانگ میں سیاحوں کی تعداد کم ہونے سے ایئرلائنز بھی متاثر ہوئی ہیں۔

ہانگ کانگ کے ایئرپورٹ کا شمار دنیا کے مصروف ترین ٹرانزٹ مراکز میں ہوتا ہے لیکن اگست میں ہونے والا اجتجاج یہاں بڑے پیمانے پر پرواز منسوخی کا باعث بنا ہے۔

source: bbc.com/urdu

TheLogicalNews

Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by TheLogicalNews. Publisher: BBC Urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *