کیمپ ملینیئر کینیڈا: بچے پیسہ بنانے کے گُر سکھانے والے کیمپوں میں کیوں جا رہے ہیں؟

Getty Images یہ رجحان مالی مستقبل کے بارے میں متوسط طبقے کی بڑھتی ہوئی پریشانی کا اشارہ دیتا ہے (فائل فوٹو)

ٹورانٹو کے مضافات کے ایک خوشحال علاقے میں ایک چرچ کے کرائے پر حاصل کیے گئے کمرے میں حسینہ لقمان سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس کو تیزی سے کھنگال رہی تھیں۔

وہ سٹاک مارکیٹ کی ایک اصطلاح ‘والیوم’ کے بارے میں پوچھتے ہوئے بازارِ حصص کی ایک اور تکینکی اصطلاح ‘مارکیٹ کیپٹلائزیشن’ کو بیان کرنا شروع کر دیتی ہیں۔

لیکن یہ کسی سکول کا کمرۂ جماعت یا کسی مقامی کالج کا لیکچر ہال بھی نہیں۔ حسینہ لقمان ‘کیمپ ملینیئر’ یا کروڑ پتیوں کے کیمپ کی پراجیکٹ مینیجر ہیں۔ انھوں نے اس کی بنیاد بھی رکھی تھی اور ان کے ایک درجن شاگردوں میں تمام طالب علم 10 سے 14 برس کی عمر کے ہیں۔

انھوں نے ڈزنی کمپنی کی مالی دستاویزات نکالیں جن میں کمپنی کے بارے میں دیگر معلومات کے علاوہ حالیہ عرصے میں اس کے حصص کی قدر میں تشویشناک کمی دیکھی جا سکتی تھی۔ ایک بچے نے سرگوشی میں کہا ‘جب الہ دین آئی تھی میں نے یہ شرط لگائی تھی۔’

مختلف لسانی پس منظر رکھنے والے طالب علموں کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ان کے زیادہ تر شاگرد متوسط یا امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک ہفتے کے لیے اس کیمپ میں شرکت کی فیس 275 کینیڈین ڈالر ہے لیکن حسینہ کا کہنا ہے کہ وہ غریب بچوں کی مالی معاونت بھی کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا یہ یہاں صرف دولت مند بننے کی خواہش میں نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا تقریباً تمام بچے ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ان کی دونوں والدین کماتے ہیں اور وہ پوری طرح سے سمجھتے ہیں کہ اچھی زندگی گزارنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔

‘وہ یہاں یہ سیکھنے آتے ہیں کہ کس طرح ان کے پاس اتنی رقم آ جائے کہ وہ یونیورسٹی میں جا سکیں اور کسی طرح یہ یقینی بنا سکیں کہ وہ اچھی زندگی گزار سکیں گے۔’

یہ بھی پڑھیے

‘بچے میٹھے مشروبات سے منہ موڑ رہے ہیں’

ایک جزیرہ جہاں بچے جینا نہیں چاہتے

نئی نسل کے باصلاح ی ت کاروباری

ہم میں سے بہت سے جب موسم گرما کی اپنی تعطیلات کو یاد کریں تو شاید ہمیں یاد آئے کہ کس طرح ہم ‘سمر کیمپوں’ کے باہر کھیلتے، تیراکی کرتے یا تھیٹر کرتے گھنٹے گزار دیتے تھے۔

لیکن حالیہ برسوں میں زیادہ تر ‘سمر کیمپس’ اور اس کے علاوہ کتابیں اور رسالے بھی بچوں کو یہ سبق دے رہے ہیں کہ پیسہ کیسے بنایا جائے اور امیر کیسے بنا جائے۔

کیمپ ملینیئر کی طرح کے فنانس کیمپس شمالی امریکہ میں بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ امریکی ریاست ڈینور میں ‘جونیئر منی میٹر’ نامی کیمپ ہے جو بلوغت کی عمر سے پہلے بچوں کو بین الاقوامی تجارت کی تھیوری پڑھاتا ہے۔

آسٹن ‘مولہ یو’ کے نام سے سمر کیمپ میں شریک بچے حقیقی طور پر کاروبار کرتے ہیں، اپنی مصنوعات بنا کر ان کو بیچتے ہیں۔

ہانگ کانگ میں ‘کڈز بزنس اکیڈمی’ چھٹیوں میں ایک کیمپ لگاتی ہے جہاں آٹھ سے 14 برس کی عمر کے بچے کاروبار کے طریقے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں اپنی مصنوعات ڈیزائن کرنے سے سرمایہ اکھٹا کرنے تک سب شامل ہے۔

کینیڈا میں ‘کیمپ ملینیئر’ زیادہ تفصیل سے کاروبار کے بارے میں پڑھاتا ہے جس میں بجٹ بنانا، بچت کرنا، سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنا اور مالیات کے زیادہ پیچیدہ تصورات کے متعلق بتاتا ہے۔ مثال کے طور پر چین کے ساتھ تجارتی جنگ کا کینیڈا کے چھوٹے کاروباریوں پر کیا اثر پڑے گا۔

حسینہ لقمان کے مطابق یہ بازار حصص میں کاروبار کرنے والے سب سے کم عمر بچے ہیں۔

اس طرح کے کیمپس نے بہت سے دلچسپ سوالوں کو جنم دیا ہے۔ ایک سات یا 13 سالہ بچے کی عمر کے مطابق اس کے لیے فنانشل یا مالی تعلیم کیا ہو سکتی ہے۔ یہ پیسہ بنانے کی تربیت ان اخلاقی اقدار کے ساتھ کیا مطابقت رکھتے ہیں جو والدین اپنے بچوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

کیا اس طرح کے کیمپ طبقاتی نظام کو مضبوط نہیں کر رہے اور کیا یہ کم وسائل رکھنے والے بچوں کو آگے بڑھنے میں مدد دے سکتے ہیں؟

ایک ایسے دور میں جب والدین یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ بچوں کو جس وسیع معلومات تک رسائی حاصل ہے اسے روکنا کس قدر مشکل ہو گیا ہے؟ کیا عالمی مالیاتی نظام اور سرمایہ سنبھلانے کے گر بہت جلد بہت زیادہ کے زمرے میں نہیں آتے۔؟

اچھی زندگی کے لیے محنت

میلینئر کیمپ کا نصاب اتنی پیچیدہ مالی تعلیم دیتا ہے جو اچھی عمر کے لوگوں کو بھی حاصل نہیں ہوتی اور اس کے ساتھ ہی وہ خیراتی کاموں اور ذمہ دارانہ سماجی طریقہ سے پیسہ خرچ کرنے پر بھی زور دیتا ہے۔

Getty Images سٹاک مارکیٹ کے تجربے کے لیے کیمپ میں شریک ہر بچے کو سٹاک مارکیٹ میں لگانے کے لیے فرضی طور پر دس ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں (فائل فوٹو)

میلینئر کیمپ کی کلاسوں میں دولت کی تقسیم سے زیادہ دولت بنانے پر توجہ دی جاتی ہے۔ لیکن حسینہ لقمان بچوں کو دوسرے ملکوں کے حالات کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں جیسا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے کاروبار پر پڑنے والے اثرات۔

سٹاک مارکیٹ کے تجربے کے لیے حسینہ، کیمپ میں شریک ہر بچے کو سٹاک مارکیٹ میں لگانے کے لیے فرضی طور پر دس ہزار ڈالر دیتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پہلے دن جب انھیں سٹاک مارکیٹ کی بنیادی معلومات فراہم کی جا رہی تھیں کہ سٹاک مارکیٹ کیسے کام کرتی ہے، کب بند ہوتی ہے، حصص کی خرید و فروخت کیسے ہوتی ہے اور کب کھلتی اور بند ہوتی ہے، بچے بغیر سوچے سمجھے ایپل اور ڈزنی جیسی بڑی اور جانی پہچانی کمپنیوں کے حصص کا انتخاب کرنے لگے۔

لیکن چند ہی دنوں میں جب انھیں زیادہ معلومات حاصل ہوتی ہیں تو وہ کمپنیوں کو زیادہ باریک بینی سے دیکھنے لگتے ہیں۔ لقمان کے بقول آپ بچوں کو صرف پانچ دنوں ہی میں بدلتے دیکھ سکتے ہیں۔

کچھ بچے پہلے ہی سے سبقت رکھتے ہیں۔ دس برس کی الیگزنڈرا ویوز کا کہنا ہے کہ وہ اکثر اکانومی پوڈ کاسٹ سنتی ہیں اور کیمپ میں آنے سے پہلے مالی معاملات کے امریکی جریدے بیرنز کو پڑھ کر آئی تھیں۔

ان کا مقصد ہے کہ کس طرح کیمپ ملینیئر میں شریک ہونے سے انھیں یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے پیسہ بچانے میں مدد ملتی ہے۔

13 سالہ جیمز بگن نے اپنے پہلے دن سٹاک مارکیٹ چیلنج میں بہت سا پیسہ ضائع کیا لیکن گولڈن سٹار ریسورس نامی کینیڈین کمپنی جس کی گھانا میں کانیں ہیں اس کے حصص میں فرضی سرمایہ کاری کر کے بہت پیسہ بنایا۔

بگن نے کہا کہ انھیں یہ سمجھ میں آیا کہ بینک کیسے پیسہ بناتے ہیں لیکن وہ اس بارے میں اب بھی ابہام کا شکار ہیں کہ کس طرح صدر ٹرمپ کی ٹویٹ سٹاک مارکیٹ میں تیزی اور مندی لاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ سمجھ میں نہ آنے والی بات نہیں ہے کہ ایک شخص کیسے کھربوں ڈالر کے کاروبار پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

مالی معاملات

یہ رجحان مالی مستقبل کے بارے میں متوسط طبقے کی بڑھتی ہوئی پریشانی کا اشارہ دیتا ہے اور اس کا جائزہ لینا خاصہ دلچسپ ہے۔

مالی امور کے منصوبہ ساز اور ایک کتاب کے مصنف لز فریزر کا کہنا ہے ‘کریڈٹ کارڈ اور تعلیم کا قرض بہت زیادہ ہوتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے پاس ریٹائرمنٹ کے لیے زیادہ بچت نہیں ہوتی۔’

ان کے بقول اس کی بڑی وجہ مالی معاملات کے بارے میں تعلیم کی کمی ہے۔ ‘میرے خیال میں روز بروز واضح ہوتا جا رہا ہے کہ یہ صلاحیت پوری زندگی کے لیے ضروری ہے۔’

کچھ ماہرین سکولوں پر زور دے رہے ہیں کہ مالی معاملات کی تعلیم کو نصاب کے ایک اہم جز کے طور پر شامل کیا جائے، کچھ اسے حساب کے اسباق میں شامل کر رہے ہیں لیکن اس میں محدود کامیابی ملی ہے۔

امریکی یونیورسٹی الینوئے کی ایک تحقیق میں تین ہزار نوجوانوں پر کیے جانے والے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ ان میں ایک تہائی مالی طور پر سنگین حالت میں ہیں جس کی ایک وجہ مالی معاملات کے بارے میں ناقص رویہ ہے۔

آئی بی ایم کمپنی میں سافٹ ویئر پراڈکٹ مینیجر بینجامن جن کی 14 برس کی بیٹی کیرا کیمپ میں شمولیت کے بعد لوگوں کو مشورے دینے کا کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کیمپ تعلیم میں اس کمی کو پورا کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو اپنے فیصلے کرنے اور نفع اور نقصان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انھیں خاص طور پر سٹاک مارکیٹ کے بارے میں تربیتی حصہ بہت اچھا لگا جس میں بچے اکثر بہت سا پیسہ ضائع کر دیتے ہیں۔

جس کا 10 سے 14 برس کی عمر کے بچوں کو پہلے کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔ اس سے انھیں خطرات کا درست اندازہ ہو جاتا ہے۔

ایک محفوظ ماحول میں سیکھنا

نوجوان بچوں کو مالی معاملات کے مشورے یا تعلیم دینا صرف موسم سرما کے کیمپس تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ اب ایک گھریلو صنعت بنتی جا رہی ہے۔

ابھرتے ہوئے نوجوان سٹے باز بگی بینک نامی نئی کرپٹو کرنسی سے شروع کر سکتے ہیں۔ ٹین باس نامی میگزین میں سرخی لگتی ہیں کہ آپ اپنا برانڈ کیسے بنا سکتے ہیں؟

فریزیئر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بچے پیسے کے بارے میں سیکھ رہے ہیں چاہے انھیں اس کا علم ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین اپنے بچوں سے گفتگو میں ارادتاً ان معاملات کو شامل کریں۔

فنانس کیمپس تربیت کا ایک ایسا طریقہ ہے جس کے بارے میں آپ واضح بات کرتے ہیں اور بے معنی نصیحت اور اپنے تجربات بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

ان کے بقول آپ کا مقصد یہ ہے کہ وہ پیسے کو ایک ذریعہ سمجھیں۔ ‘یہ کوئی اچھی بری چیز نہیں۔ انھیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پیسہ کیوں اہم ہے اور اسے کمانا کیوں ضروری ہے اور پھر اس کے بعد باقی بات کریں۔’

کیمپ ملینیئر میں بچے اپنی کم عمری کے باوجود سود مرکب کا مطلب اچھی طرح سمجھ گئے ہیں۔ شمالی امریکہ کی تجارت کے معاہدے پر شدید بحث کے بعد وقفے کے دوران اکثر بچے ایک دوسرے کو ربڑ کی گیند سے مارتے رہے۔

ان کا ذہن مالی معاملات کی طرف بہت مختصر مدت تک مرکوز رہا۔ بہت کو کاروبار حصص بہت پسند آیا تاکہ وہ اپنی یونیورسٹی کی فیس ادا کر سکیں یا ایک دن گاڑی خرید سکیں لیکن انھوں نے ایسی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی کہ وہ بہت طاقت حاصل کرنا چاہتے ہوں یا بہت زیادہ پیسہ جمع کرنا چاہتے ہوں۔

کیمپ میلینئر میں 16 سالہ کونسلر عبتین عباس پور کا کہنا تھا کہ ‘ہر کسی کو پیسے کی ضرورت ہے زندگی میں کوئی بھی چیز حاصل کرنے کے لیے چاہے آپ بہت غریب ہوں یا آپ کا شمار ایک فیصد خوش قسمت لوگوں میں ہو۔ سمجھ داری کی بات یہی ہے کہ جب آپ اپنے والدین کے محفوظ سائے میں ہیں آپ یہ سب سیکھ لیں۔’

عباس پور ڈرائیونگ سیکھ رہے ہیں اور ایک دن وہ بڑی گاڑی خریدنا چاہتے تھے۔ ‘لیکن اب اگر میرے پاس پیسہ آ گیا تو میں ہونڈا سوک پر ہی اکتفا کروں گا۔’

source: bbc.com/urdu

TheLogicalNews

Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by TheLogicalNews. Publisher: BBC Urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *