کشمیر میں غیر اعلانیہ ہڑتال کے 106 دن، عوام پریشان، تجارت ٹھپ

سری نگر: وادی کشمیر میں 106 دنوں سے جاری غیر یقینی صورتحال اور غیر اعلانیہ ہڑتال کے بیچ پیر کے روز صبح کے وقت بازاروں میں لوگوں اور پبلک و نجی گاڑیوں کے غیر معمولی رش سے کئی جگہوں پر لوگ گنجلگ ٹریفک جام میں پھنس گئے۔

ادھر سیول لائنز سری نگر کی سڑکوں پر گزشتہ دو ماہ سے ڈیرا زن چھاپڑی فروشوں نے جوں ہی پیر کے روز صبح کے وقت ریڑوں پر سازوسامان سجانا شروع کیا تو ریاستی پولس نے انہیں سامان کی گھٹریاں کھولنے ہی نہیں دیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے سیول سری نگر کی سڑکوں بالخصوص سنڈے مارکیٹ میں چھاپڑی فروش ہی ریڑوں پر اشیائے ضروریہ لدے ہوئے نموادار ہوتے تھے اور بازاروں میں دکان بند ہونے کی صورت میں لوگ گزشتہ دو ماہ سے چھاپڑی فروشوں سے ہی گھریلو ساز وسامان خریدتے تھے۔

راہگیروں کا کہنا ہے کہ جب حالات خراب تھے تو ان چھاپڑی فروشوں کو سڑکوں پر بیٹھنے دیا جاتا تھا لیکن معمولات زندگی بحالی کی طرف گامزن ہوتے ہی انہیں اب سڑکوں پر ریڑے لگانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی چھاپڑی فروشوں نے گلی کوچوں میں ریڑے لگائے تھے لیکن وہاں خریدار نایاب تھے۔

مرکزی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کے جموں کشمیر کو دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی تنسیخ اور ریاست کو دو دفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلے کے خلاف وادی میں غیر اعلانیہ ہڑتالوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا تھا جو ہنوز جاری ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کے گوشہ کنار میں پیر روز معمولات زندگی کو تیزی کے ساتھ بحالی کی طرف گامزن ہوتے ہوئے دیکھا گیا، بازار دن کے بیشتر وقت کھلے رہے اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کے غیر معمولی رش کی وجہ سے کئی جگہوں پر گنجلگ ٹریفک جام کا معاملہ پیش آیا اور لوگوں کو منٹوں کا سفر طے کرنے میں گھنٹوں لگ گئے۔

ادھر وادی میں ریل خدمات بھی بتدریج بحال ہورہی ہیں۔ ریلوے حکام نے پہلے سری نگر تا بارہمولہ ریل سروس بحال کی جبکہ بعد ازاں اتوار سے سری نگر تا بانہال ریل سروس بھی بحال ہوئی۔ ریلوے ذرائع نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ اگلے احکامات تک بارہمولہ سے بانہال تک دن میں صرف دو ریل گاڑیاں چلیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی انتطامیہ کی ایڈوائزری پر عمل در آمد کرتے ہوئے یہ ریل گاڑیاں صبح دس بجے سے سہ پہر تین بجے کے درمیان چلائی جائیں گی۔

وادی میں اگرچہ مواصلاتی خدمات پر عائد پابندیوں کو بھی بتدریج ہٹایا جارہا ہے لیکن انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سروسز پر پابندیاں ہنوز جاری ہیں جس کے باعث مختلف شعبہ ہائے حیات سے وابستہ لوگوں بالخصوص صحافیوں، طلبا اور تاجروں کے مشکلات ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ ہورہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ صورتحال میں مزید بہتری اور مقامی وسیول انتظامیہ کی طرف سے گرین سگنل ملتے ہی وادی میں معمول کی ریل خدمات بحال کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ کو ریل سروس بند رہنے سے مسافروں کو پیش آرہے مشکلات کا احساس ہے۔ قابل ذکر ہے کہ وادی میں ریل خدمات پانچ اگست سے مسلسل معطل تھیں جس کے باعث لوگوں کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ کام کی انجام دہی کے لئے انہیں انتظامیہ کی طرف سے ساڑھے تین ماہ سےقائم کیے گئے میڈیا سینٹر جو پہلے سری نگر کے ایک نجی ہوٹل میں قائم تھا اور بعد ازاں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے ایک چھوٹے کمرے میں منتقل کیا گیا، کا رخ کرنا پڑرہا ہے جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے جس کی وجہ سے کام کو خوش اسلوبی سے انجام پانے میں متنوع مسائل پیش آرہے ہیں۔

شہر سری نگر کے جملہ علاقوں بشمول تجارتی مرکز لالچوک میں پیر کے روز صبح کے وقت تمام دکانیں کھل گئیں اور بعد میں بعض علاقوں میں دوپہرتک جبکہ بعض علاقوں میں دن کے دو بجے تک کھلے رہے جس دوران بازاروں میں لوگوں کا غیر معمولی رش رہا، سڑکوں پر نجی ٹرانسپورٹ کی بھر پور جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی بھی اچھی خاصی نقل وحمل جاری رہی۔

وادی کے دیگر ضلع صدر مقامات و قصبہ جات میں بھی پیر کے روز بازاروں میں دن بھر گہما گہمی رہی بعض علاقوں میں صبح کے وقت جبکہ کئی علاقوں میں دوپہر سے ہی بازار کھل گئے اور سڑکوں پر ٹریفک کی غیر معمولی آمد ورفت جاری رہی۔

ادھر انتظامیہ نے وادی کے محبوس سیاسی لیڈروں کو سردی کے پیش نظر دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے چند روزقبل پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو چشمہ شاہی سے مولانا آزاد روڑ کے متصل ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس میں منتقل کیا گیا جبکہ اتوار کے روز 34 لیڈروں کو سنتور ہوٹل سے ایم ایل اے ہوسٹل منتقل کیا گیا تاہم نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ فی الوقت ہری نواس میں ہی بند ہیں۔

TheLogicalNews

Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by TheLogicalNews. Publisher: Qaumiawaz urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *