پاکستان میں سنہ 2019، سیاسی اختلاف کو کچلنے کا سال: ایچ آر سی پی

Getty Images

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ سال 2019 ملک میں منظّم طریقے سے سیاسی اختلاف کو دبانے کے لحاظ سے یاد رکھا جائے گا۔

انسانی حقوق کے کمیشن نے سال 2019 کے بارے میں اپنی تفصیلی رپورٹ میں کہا کہ سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے گئے جن میں میڈیا کے لیے رکاوٹیں پیدا کرنا، ڈیجیٹل نگرانی، سوشل میڈیا سے متعلق ضرورت سے زیادہ قانون اور قدغنیں شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے انٹرویوز نشر ہونے سے روکے گئے اور حکومت نے آزاد اور تنقیدی آوازوں کو دبایا۔ ڈان جیسے بڑے اخباروں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا اور جیو نیوز اور آج ٹی وی سمیت کئی ٹی وی چینلوں میں تنقیدی آوازوں کو مفلوج کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

‘ایک بار کرائے دار ہیں تو آپ ہمیشہ کرائے دار رہیں گے’

رپورٹ کے مطابق حکومتی اقدامات کے نتتجے میں کئی ہزار صحافی، فوٹوگرافر اور میڈیا سے منسلک دیگر افراد کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اِس کے علاوہ حکومت کی جانب سے اشتہارات روکے جانے اور واجبات ادا نہ کیے جانے کی وجہ سے کئی اخبارات اور جرائد بند ہو گئے۔

مخالفین اور حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو بیرونِ ملک جانے سے روکنے کے لیے ایگزٹ کنٹرول لسٹ کا من مانا اور حد سے زیادہ استعمال جاری ہے۔ جبکہ لوگوں کو سیاسی اور احتجاجی جلسوں میں جانے سے روکنے کے لیے نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کی گئیں۔

آزادیِ اظہار

رپورٹ کے مطابق رائے اور اظہار کی آزادی پر قدغنیں جاری ہیں۔

خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگیوں جیسے حساس موضوعات پر کھل کر بولنا اور لکھنا یا ریاستی پالیسیوں اور ایجنسیوں پر تنقید کرنا اب مزید مشکل ہو گیا ہے۔

گذشتہ برس اکتوبر میں ہونے والی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے اسٹیو بٹلر کو شرکت سے روک دیا گیا۔ جب میڈیا تنظیموں نے تمام میڈیا کے لیے ایک نگراں ادارے کی تجویز کو مسترد کر دیا تو حکومت نے اعلان کیا کہ میڈیا کے خلاف شکایتوں کو سننے کے لیے خصوصی ٹریبونل بنائے جائیں گے۔

صحافیوں کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اسے میڈیا کو دبانے کی ایک اور کوشش قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔

سال 2019 میں انٹرنیٹ کی آزادی کی عالمی رینکنگ میں پاکستان مزید نیچے آیا جس کہ وجہ سائبر کرائم کا متنازع قانون، انٹرنیٹ کی بندش اور سیاسی مخالفین پر سائبر حملے تھے جن کا قومی سلامتی کے نام پر جواز بنایا گیا۔ سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے سخت دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے اکثر صحافیوں نے سیلف سینسر شب کا شکار ہو گئے جبکہ بعض نے نوکری سے استعفی دے دیا۔

جبری گمشدگیاں

موجودہ حکومت کی جانب سے کئی مرتبہ کیے جانے والے وعدوں کے باوجود جبری گمشدگیوں کو قابلِ سزا جرم نہیں قرار دیا گیا۔ جبری گمشدگیوں کے انکوائری کمیشن کے قیام سے اب تک خیبر پختون خوا میں سب سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔

سال 2019 کے اختتام تک رجسٹر کیے جانے والے لاپتہ افراد کی تعداد 2472 تھی۔ اِیسے افراد کی تعداد میں تا حال اضافہ ہو رہا ہے جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ اپنی سیاسی اورمذہبی وابستگیوں یا انسانی حقوق کا دفاع کرنے کی وجہ سے لاپتہ ہیں۔

جنوبی پنجاب میں ایک سیاسی کارکن احمد مصطفیٰ کانجو کو جنوری میں مبینہ طور پر سرکاری ایجنسیوں نے اغوا کیا۔ خیبر پختونخوا میں انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک نومبرسے لاپتہ ہیں۔ اِس سلسلے میں جبری گمشدگیوں کا انکوائری کمیشن کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکا ہے۔

امن و امان کی صورتحال

گذشتہ کچھ برسوں سے دہشت گردی کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد میں کمی ہوئی لیکن دہشت گردوں کے حملوں اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں اب بھی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ سال 2019 میں ایسے واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 1444 رہی۔ جبکہ سال 2018 میں یہ تعداد 2333 تھی۔

خواتین کی صورتحال

ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے سال 2019 میں پاکستان کو صنفی برابری کے عالمی انڈیکس میں 153 کی فہرست میں 151 نمبر پر رکھا۔ حالیہ برسوں میں پاکستان میں خواتین سے متعلق کی جانے والی قانون سازی کے باوجود ملک میں خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

خواتین کو ملازمت، مالی فوائد، سیاسی نمائندگی اور تعلیم تک رسائی میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ عورت مارچ کی وجہ سے پاکستان بھر میں عوامی سطح پر عورتوں کو اپنے مسائل اجاگر کرنے کا موقع ملا لیکن انھوں نے اِس موقع پر ناجائز تنقید اور ہراس کا سامنا کیا۔

پاکستان میں سائبر کرائم اور آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

خواتین کو ان کی ذاتی ویڈیو اور تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنے کے واقعات سال بھر سامنے آتے رہے۔

Getty Images ‘کیا کوئی خاتون گرم ہونے کے علاوہ ماں، بہن اور بیٹی نہیں ہو سکتی؟’

بچوں سے برتاؤ

سال 2019 میں ایک اندازے کے مطابق بچوں سے زیادتی کے کم از کم 2846 کیس دستاویز ہوئے، لیکن خدشہ ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

بچوں سے زیادتی کے واقعات میں بلوچستان کی کانوں میں کام کرنے والے مزدور بچوں سے جنسی زیادتی سے لے کر سندھ میں بچوں کو نشہ آور ادویات دے کر اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعات شامل ہیں۔

حالانکہ بچوں کے حقوق کے نیشنل کمیشن کا قانون سنہ 2017 میں منظور ہو چکا ہے لیکن کمیشن کا قیام ابھی تک عمل میں نہیں آ سکا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق پاکستان ایسے ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں سب سے زیادہ بچے سکول نہیں جاتے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 28 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ان بچوں کی عمریں پانچ سے 16 برس کے درمیان ہیں۔

Getty Images

معاشی اور سماجی کارکردگی

ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشت اور طرزِ حکمرانی کو بہتر کرنے کے حکومتی وعدے بھی ابھی تک پورے نہیں کیے جا سکے ہیں۔

معیشت کی کوئی ایسی راہ متعین نہیں کی جا سکی ہے جو مجموعی طور پر عوام کی حالت میں بہتری لا سکے۔ اِس کے علاوہ بدعنوانی کے خاتمے اور قرضوں سے نجات کے نعرے بھی پورے نہیں ہو سکے ہیں اور اپنے پسندیدہ سیاستدانوں اور بڑے کاروباروں کو فائدے پہنچائے گئے۔

پاکستان کے آئین میں ملک کے شہریوں کو جن حقوق کی ضمانت دی گئی ہے ان سے متعلق خراب ریکارڈ کا تسلسل برقرار ہے۔

انصاف کی فراہمی، امن و امان کا قیام، جبری گمشدگیوں کو جرم قرار دینا، خواتین اور ٹرانس جینڈر کی حالتِ زار میں بہتری، بچوں سے زیادتی کا خاتمہ اور اقلتیوں سے برتاؤں جیسے شعبوں میں کوئی قابلِ ذکر بہتری نہیں آئی۔

اِس کے علاوہ مزدوروں، کان کنوں، کسانوں، صفائی کا کام کرنے والے کارکنوں، میڈیا ورکرز، نرسوں، اساتذہ اور مچھیروں کے سماجی و معاشی حالات کی بہتری کے اقدامات بھی نہیں ہوئے۔

انسانی حقوق کے کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے معاشی اور سیاسی نظام کے بنیادی اور موروثی مسائل سال 2019 میں ماضی سے زیادہ پریشان کن ہو چکے ہیں۔ یہ مسائل بڑے پیمانے پر سماجی اور معاشی عدم مساوات کا باعث بنے ہیں خاص طور پر ملک کے غریب اور محروم افراد مزید پسمانگی کا شکار ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق کا قومی کمیشن مئی 2019 سے غیر فعال ہے اور اس کے سربراہ کا تقرر نہیں ہو سکا ہے۔ جبکہ خواتین سے متعلق قومی کمیشن کے سربراہ کی کرسی بھی فروری 2018 سے خالی ہے۔

قانون سازی

سنہ 2019 میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں کل 107 ایکٹ منظور ہوئے جن میں چھ وفاقی جبکہ 101 صوبائی تھے۔ خیبر پختون خوا کی اسمبلی نے 45 قوانین منظور کیے جو باقی صوبائی اسمبلیوں سے زیادہ تھے۔ دوسری جانب 11 صدارتی آرڈینینس منظور کیے گئے جن پر انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے نکتہ چینی کی گئی۔ یہ آرڈینینس نومبر کے مہینے میں واپس لے لیے گئے۔

Getty Images

عدالتیں

ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق سال 2019 کے اختتام تک عدالتوں میں تقریباً 18 لاکھ مقدمات زیرِ التوا تھے۔ جبکہ سال 2018 میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 19 لاکھ تھی۔

سال 2019 میں 584 مقدمات میں سزائے موت سنائی گئی جبکہ 15 مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ دسمبر کے مہینے تک توہینِ مذہب کے الزام میں سزائے موت پانے والے 17 افراد کال کھوٹھڑی میں ہیں۔

حکومت کے لا اینڈ جسٹس کمیشن کے سامنے پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2010 سے 2018 تک سپریم کورٹ نے سزائے موت کے 78 فیصد فیصلوں کو مسترد کیا۔ سپریم کورٹ نے سزائے موت کے مقدمات میں ملزمان کو بری کر دیا، سزا میں کمی کی یا نظرِ ثانی کا حکم دیا۔

source: bbc.com/urdu

TheLogicalNews

Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by TheLogicalNews. Publisher: BBC Urdu

(Visited 2 times, 1 visits today)
The Logical News

FREE
VIEW
canlı bahis